پہلا باب: ایک ادھوری کہانی

شام ڈھل رہی تھی اور گلی کے آخری مکان کی کھڑکی میں ایک چراغ ابھی تک جل رہا تھا۔
احمد نے برسوں بعد اس گلی میں قدم رکھا تھا۔ ہر دیوار پرانی یادوں کی طرح جانی پہچانی بھی تھی اور اجنبی بھی۔
اور پھر اس نے وہ دروازہ کھٹکھٹایا جسے کھولنے کی ہمت وہ برسوں سے جمع کر رہا تھا۔
0 comments